چکمگلورو 7/اکتوبر (ایس او نیوز) بے نامی املاک اور اپنے معلوم ذرائع سے زیادہ دولت رکھنے کے الزامات کے پیش نظرلوک آیوکتہ عدالت نے بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کے خلاف اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کو تحقیقات کا حکم دیاہے۔
مسٹر روی کے خلاف چکمگلورو کے ایک آر ٹی آئی کارکن مسٹر اے سی کمارنے لوک آیوکتہ عدالت میں دستاویزی شہادت پیش کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ سابق منسٹر اورموجودہ ایم ایل اے روی نے اپنی اعلان شدہ املاک سے زیادہ جائیداد اور دولت جمع کر رکھی ہے جو اس کے معلوم ذرائع کے برخلاف بہت زیادہ ہے۔ سال 2010 میں داخل کی گئی اس نجی شکایت پرجج نے سماعت مکمل کرلینے کے بعد اے سی بی کو ہدایت جاری کی ہے کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی سطح کے کسی افسر کے ذریعے مسٹر روی کے خلاف تحقیقات کروائی جائے اور اس کی رپورٹ7/جنوری 2017سے پہلے عدالت کے سامنے پیش کرے۔
شکایت کنندہ کا موقف یہ ہے کہ مسٹر روی نے محکمہ انکم ٹیکس کو جو تفصیل فراہم کی ہے اس کے مطابق سال 2010 سے2002کے درمیان اس کی آمدنی 49 لاکھ روپے ہے۔ جبکہ اس عرصے میں روی کی دولت3 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔ اور اس نے جو بے نامی جائیداد بنا رکھی ہے وہ الگ ہے۔ شکایت میں الزام یہ بھی ہے کہ روی نے انجنیا ایجو کیشن ٹرسٹ کے نام پرسرکاری زمین غیر قانونی طور پر ہڑپ کررکھی ہے۔ یہ ایجوکیشن ٹرسٹ روی کی بیوی پلّوی کے نام پر ہے۔ اس کے علاوہ اس نے مبینہ طور پر چکمگلورو کے مارالے قصبے میں 150 ایکڑ سرکاری زمین پرغیر قانونی قبضہ کررکھا ہے اوروہاں روی کے بہنوئی کی طرف سے کھدائی چل رہی ہے۔اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر ہاوسنگ بورڈ کے سائٹس اپنے نام کروالینے، اور اپنے کافی باغ کے قریب واقع جھیل پر غیر قانونی قبضہ کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
گمان کیا جاتا ہے کہ عدالت کا حکم نامہ دستیاب ہوتے ہی اے سی بی کی طرف سے روی کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے جائیں گے۔شکایت کنندہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت نے اے سی بی کو روی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بعد تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔